(۲۹۲۲۹) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ سُمَیْعٍ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ عُمَیْرٍ الْحَنَفِیِّ ، قَالَ : أُتِیَ عُمَرُ بِابْنِ مَظْعُونٍ قَدْ شَرِبَ خَمْرًا ، فَقَالَ : مَنْ شُہُودُک ؟ قَالَ : فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ ، وَعَتَّابُ بْنُ سَلَمَۃَ ، وَکَانَ یُسَمَّی عَتَّابُ الشَّیْخَ الصَّدُوقَ ، فَقَالَ : رَأَیْتُہُ یَقِیؤُہَا ، وَلَمْ أَرَہُ یَشْرَبُہَا ، فَجَلَدَہُ عُمَرُ الْحَدَّ۔
(٢٩٢٢٩) حضرت مالک بن عمیر بن حنفی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس مظعون کے ایک بیٹے کو لایا گیا تحقیق اس نے شراب پی تھی۔ آپ نے پوچھا : تمہارے گواہ کون ہیں ؟ اس نے کہا : فلاں اور فلاں اور عتاب بن سلمہ اور عتاب کو شیخ صدوق کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ انھوں نے کہا : میں نے اس کو قے کرتے ہوئے دیکھا ہے میں نے اسے شراب پیتے ہوئے نہیں دیکھا، سو حضرت عمر نے اس پر حد لگائی۔