(۲۹۲۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْحَمِیدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَامِلَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، وَمَرَّ رَجُلٌ بَیْنَ یَدَیْہِ وَہُوَ یُصَلِّی ، فَجَبَذَہُ حَتَّی کَادَ یَخْرِقَ ثِیَابَہُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَوْ یَعْلَمُ الْمَارُّ بَیْنَ یَدَیِ الْمُصَلِّی ، لَأَحَبَّ أَنْ یَنْکَسِرَ فَخْذُہُ ، وَلاَ یَمُرُّ بَیْنَ یَدَیْہِ۔
(٢٩٢٨) حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبد العزیز کے گورنر عبد الحمید بن عبد الرحمن کے آگے سے ایک آدمی نماز کے دوران گذرنے لگا، تو انھوں نے اسے اس زور سے کھینچا کہ اس کے کپڑے پھٹنے کے قریب ہوگئے۔ جب انھوں نے نماز پوری کرلی تو فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ اگر نمازی کے آگے سے گذرنے والا جان لے کہ اس میں کتنا گناہ ہے تو وہ اپنی ران کے ٹوٹنے کو ترجیح دے لیکن نمازی کے آگے سے نہ گذرے۔