(۲۹۳۵۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ بَکْرٍ ، قَالَ : تَزَوَّجَتِ امْرَأَۃٌ عَبْدَہَا ، فَقِیلَ لَہَا ؟ فَقَالَتْ : أَلَیْسَ اللَّہُ یَقُولُ : {وَمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ} فَہَذَا مْلِکُ یَمِینِی ، وَتَزَوَّجَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ غَیْرِ بَیِّنَۃٍ ، وَلاَ وَلِیٍّ ، فَقِیلَ لَہَا ؟ فَقَالَتْ : أَنَا ثَیِّبٌ ، وَقَدْ مَلَکْتُ أَمْرِی ، فَرُفِعَتا إِلَی عُمَرَ ، فَجَمَعَ النَّاسَ فَسَأَلَہُمْ ؟ فَقَالُوا : قَدْ خَاصَمَتَاک بِکِتَابِ اللہِ جَلَّ جَلاَلُہُ ، وَقَالَ عَلِیٌّ : قَدْ خَاصَمَتَاک بِکِتَابِ اللہِ ، فَجَلَدَ کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مِئَۃَ جَلْدَۃٍ ، ثُمَّ کَتَبَ إِلَی الأَمْصَارِ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ تَزَوَّجَتْ عَبْدَہَا ، أَوْ تَزَوَّجَتْ بِغَیْرِ وَلِیٍّ ، فَہِیَ بِمَنْزِلَۃِ الزَّانِیَۃِ۔
(٢٩٣٥٥) حضرت حصین فرماتے ہیں کہ حضرت بکر نے ارشاد فرمایا : ایک عورت نے اپنے غلام سے شادی کی پس اس سے اس بارے میں پوچھا گیا ؟ تو وہ کہنے لگی : کیا اللہ رب العزت نے یوں نہیں فرمایا : اور وہ جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہیں، تو میرا داہنا ہاتھ اس کا مالک ہے، اور ایک دوسری عورت نے بغیر گواہی اور ولی کی اجازت کے بغیر شادی کی پس اس سے اس بارے میں پوچھا گیا ؟ تو وہ کہنے لگی : میں ثیبہ عورت ہوں اور مجھے میرے معاملہ کا اختیار ہے سو ان دونوں کا معاملہ حضرت عمر کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ آپ نے لوگوں کو جمع کر کے ان سے ان دونوں کے بارے میں پوچھا ؟ لوگوں نے کہا ! تحقیق ان دونوں نے اللہ جل جلالہ کی کتاب سے جھگڑا کیا ہے اور حضرت علی نے بھی فرمایا : تحقیق ان دونوں نے اللہ جل جلالہ کی کتاب سے جھگڑا کیا ہے۔ سو آپ نے ان دنوں میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارے پھر آپ نے شہروں کے امراؤں کو خط لکھ دیا : جو کوئی عورت اپنے غلام سے شادی کرلے یا وہ ولی کی اجازت کے بغیر شادی کرلے تو زانیہ کے درجہ میں ہوگی۔