(۲۹۳۶۳) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : جَائَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّی قَدْ زَنَیْتَ ، فَأَعْرَضَ عَنْہُ حَتَّی أَتَاہُ أَرْبَعَ مِرَارٍ ، فَأَمَرَ بِہِ أَنْ یُرْجَمَ ، فَلَمَّا أَصَابَتْہُ الْحِجَارَۃُ أَدْبَرَ یَشْتَدُّ ، فَلَقِیَہُ رَجُلٌ بِیَدِہِ لَحْیُ جَمَلٍ ، فَضَرَبَہُ فَصَرَعَہُ ، فَذُکِرَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِرَارُہُ حِینَ مَسَّتْہُ الْحِجَارَۃُ ، قَالَ : فَہَلاَّ تَرَکْتُمُوہُ۔ (بخاری ۵۲۷۲۔ مسلم ۱۶)
(٢٩٣٦٣) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے : بیشک میں نے زنا کیا ہے ! سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اعراض کیا یہاں تک کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چوتھی مرتبہ آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں حکم دیاتو ان کو سنگسار کیا گیا جب انہں پ پتھروں کی تکلیف پہنچی تو وہ تکلیف سے بھاگنے لگے اتنے میں اسے ایک آدمی ملا جس کے ہاتھ میں اونٹ کا جبڑا تھا پس اس نے اسے مارا اور اسے نیچے گرا دیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ان کے بھاگنے کا معاملہ ذکر کیا گیا جب انھیں پتھروں کی تکلیف محسوس ہوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا ؟ ’