hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 29372

.

ابن أبي شيبة

29372
Ibn Abi Shaybah
(۲۹۳۷۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ؛ أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ أَتَی أَبَا بَکْرٍ فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ زَنَی ، فَقَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ : ذَکَرَتَ ہَذَا لأَحَدٍ غَیْرِی ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ : اسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللہِ ، وَتُبْ إِلَی اللہِ ، فَإِنَّ النَّاسَ یُعَیِّرُونَ ، وَلاَ یُغَیِّرُونَ ، وَاللَّہُ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَن عِبَادِہِ ، فَلَمْ تَقَرَّ نَفْسُہُ، حَتَّی أَتَی عُمَرَ ، فَذَکَرَ مِثْلَ مَا ذکرَ لأَبِی بَکْرٍ ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : مِثْلَ مَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ ، فَلَمْ تَقَرَّ نَفْسُہُ حَتَّی أَتَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ قَدْ زَنَی ، فَأَعْرَضَ عَنْہُ ، حَتَّی قَالَ لَہُ ذَلِکَ مِرَارًا ، فَلَمَّا أَکْثَرَ ، بَعَثَ إِلَی قَوْمِہِ ، فَقَالَ لَہُمْ : ہَلَ اشْتَکَی ؟ أَبِہِ جِنَّۃٌ ؟ فَقَالُوا : لاَ وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّہُ صَحِیحٌ ، قَالَ : أَبِکْرٌ ، أَمْ ثَیِّبٌ ؟ قَالُوا : بَلْ ثَیِّبٌ ، فَأَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ۔ (عبدالرزاق ۱۳۳۴۲)
(٢٩٣٧٣) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور انھیں اطلاع دی کہ میں نے زنا کیا ہے تو حضرت ابوبکر نے ان سے فرمایا : کیا تم نے اس بات کو میرے علاوہ کسی سے ذکر کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں حضرت ابوبکر نے ان سے فرمایا : تم اللہ کی ستر پوشی کی وجہ سے اپنا عیب چھپاؤ اور اللہ سے توبہ کرو بیشک لوگ عار دلائے جاتے ہیں لیکن غیرت نہیں کھاتے کریں گے اور اللہ رب العزت اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ پس ان کے نفس کو قرار نہیں آیا یہاں تک کہ وہ حضرت عمر کے سامنے ذکر کی تھی حضرت عمر نے بھی ان کو وہی جواب دیا جو حضرت ابوبکر نے دیا تھا۔ ان کے نفس کو قرار نہیں آیا یہاں تک کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع دی کہ بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے اعراض کیا۔ یہاں تک کہ انھوں نے کئی مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کہا جب بہت زیادہ ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی قوم کی طرف ایک قاصد بھیجا اور ان سے کہا : کیا یہ بیمار ہے ؟ یا اس کو جنون لاحق ہے ؟ انھوں نے عرض کی : نہیں، اللہ کی قسم ! یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بیشک یہ بالکل صحیح ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا ! غیر شادی شدہ ہے یا شادی شدہ ؟ انھوں نے کہا : بلکہ شادی شدہ ہے۔ سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے ان کو سنگسار کردیا گیا۔