(۲۹۳۷۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِی عُثْمَانَ بْنِ نَصْرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کُنْتُ فِیمَنْ رَجَمَ مَاعِزًا ، فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَۃِ ، قَالَ : رُدُّونِی إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْکَرْتُ ذَلِکَ ، فَأَتَیْتُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ : قَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ : لَقَدْ بَلَغَنِی، فَأَنْکَرْتہ، فَأَتَیْتُ جَابِرًا، فَقُلْت: لَقَدْ ذَکَرَ الأَسْلَمِیُّ شَیْئًا مِنْ قَوْلِ مَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ: رُدَّونِی، فَأَنْکَرْتُہُ، فَقَالَ: أَنَا فِیمَنْ رَجَمَہُ ، فَقَالَ: إِنَّہُ وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَۃِ ، قَالَ: رُدّونِی إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ قَوْمِی آذَوْنِی ، وَقَالُوا : ائْتِ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَإِنَّہُ غَیْرُ قَاتِلِکَ ، فَمَا أَقْلَعْنَا عَنْہُ حَتَّی قَتَلْنَاہُ ، فَلَمَا ذُکِرَ شَأْنُہُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَلاَ تَرَکْتُمُوہُ حَتَّی أَنْظُرَ فِی شَأْنِہِ۔
(نسائی ۷۲۰۶۔ احمد ۴۳۱)
(٢٩٣٧٦) حضرت ابو عثمان بن نصر فرماتے ہیں کہ میرے والد نے ارشاد فرمایا : میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے حضرت ماعز کو سنگسار کیا تھا پس جب انھوں نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو کہنے لگے : تم لوگ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس لوٹا دو پس میں نے اس بات سے انکار کردیا راوی کہتے ہیں میں حضرت عاصم بن عمر کے پاس آیا اور کہا : حضرت حسن بن محمد ابن حنفیہ فرماتے ہیں : تحقیق مجھے خبر پہنچی ہے کہ ! پس میں نے اس کا انکار کردیا میں پھر حضرت جابر کے پاس آیا اور میں نے کہا : تحقیق حضرت اسلمی نے ماعز بن مالک کے قول میں سے کچھ ذکر کیا ہے کہ ؟ تم لوگ مجھے لوٹا دو میں اس کا انکار کرتا ہوں ! سو انھوں نے جواب دیا : میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے ان کو سنگسار کیا تھا اور آپ نے فرمایا : بیشک انھوں نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی اور کہا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لوٹا دو بیشک میری قوم نے مجھے تکلیف میں ڈالا، اور لوگوں نے کہا : تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلے جاؤ وہ تمہیں قتل نہیں کریں گے پس ہم لوگوں نے انھیں نہیں چھوڑا یہاں تک کہ ہم نے ان کو مار دیا پھر جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ان کی حالت کا ذکر کیا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے اس کو چھوڑکیوں نہیں دیا یہاں تک کہ میں اس حالت میں غور کرلیتا ؟