(۲۹۴۱۱) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاکٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی ذُہلُ بْنُ کَعْبٍ ، قَالَ : أَرَادَ عُمَرُ أَنْ یَرْجُمَ الْمَرْأَۃَ الَّتِی فَجَرَتْ وَہِیَ حَامِلٌ ، فَقَالَ لَہُ مُعَاذٌ : إِذًا تَظْلِمُہَا ، أَرَأَیْتَ الَّذِی فِی بَطْنِہَا ، مَا ذَنْبُہُ ؟ عَلاَمَ تَقْتُلْ نَفْسَیْنِ بِنَفْسٍ وَاحِدَۃٍ ؟ فَتَرَکَہَا حَتَّی وَضَعَتْ حَمْلَہَا ، ثُمَّ رَجَمَہَا۔
(٢٩٤١١) حضرت ذھل بن کعب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے اس عورت کو سنگسار کرنے کا ارادہ کیا جس نے بدکاری کی تھی اور وہ حاملہ تھی حضرت معاذ نے آپ سے فرمایا : تب تو آپ اس پر ظلم کرو گے آپ کی کیا رائے ہے اس جان کے بارے میں جو اس کے پیٹ میں موجود ہے۔ اس کا کیا گناہ ہے ؟ کس وجہ سے آپ ایک جان کے بدلے دو جانوں کو قتل کرو گے ؟ سو آپ نے اس عورت کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس نے اپنا حمل وضع کیا پھر آپ نے اسے سنگسار کیا۔