(۲۹۴۱۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، قَالَ : لَمَّا شَہِدَ أَبُو بَکْرَۃَ وَصَاحِبَاہُ عَلَی الْمُغِیرَۃِ ، جَائَ زِیَادٌ ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : رَجُلٌ لَنْ یَشْہَدَ إِنْ شَائَ اللَّہُ إِلاَّ بِحَقٍّ ، قَالَ : رَأَیْتُ انْبِہَارًا وَمَجْلِسًا سَیِّئًا ، فَقَالَ عُمَرُ : ہَلْ رَأَیْتَ الْمِرْوَدَ دَخَلَ الْمُکْحُلَۃِ ؟ قَالَ : لاَ ، فَأَمَرَ بِہِمْ فَجُلِدُوا۔
(٢٩٤١٩) حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکرہ اور ان کے دو ساتھیوں نے حضرت مغیرہ کے خلاف گواہی دے دی تو زیاد آئے حضرت عمر نے ان سے فرمایا : ایک آدمی ہرگز گواہی نہیں دے گا ان شاء اللہ مگر حق بات کی۔ اس نے کہا : میں نے حیران کن بات اور بری مجلس دییھت اس پر حضرت عمر نے پوچھا کیا تو نے سلائی کو سرمہ دانی میں داخل ہونے کی طرح دیکھا ؟ اس نے کہا نہیں حضرت عمر نے ان کے متعلق حکم دیا تو ان سب کو کوڑے مارے گئے۔