(۲۹۴۲۶) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : أُتِیَ عَلِیٌّ بِرَجُلٍ وَشَہِدَ عَلَیْہِ رَجُلاَنِ أَنَّہُ سَرَقَ ، فَأَخَذَ فِی شَیْء مِنْ أُمُورِ النَّاسِ ، وَتَہَدَّدَ شُہُودَ الزُّورِ ، فَقَالَ : لاَ أُوتَی بِشَاہِدِ زُورٍ إِلاَّ فَعَلْتُ بِہِ کَذَا وَکَذَا ، قَالَ : ثُمَّ طَلَبَ الشَّاہِدَیْنِ فَلَمْ یَجِدْہُمَا ، فَخَلَّی سَبِیلَہُ۔
(٢٩٤٢٦) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ حضرت علی کے پاس ایک آدمی لایا گیا اور اس کے خلاف دو گواہوں نے گواہی دی کہ اس نے چوری کی ہے۔ پس آپ لوگوں کے معاملات میں سے کسی کے کام میں مشغول ہوگئے اور آپ نے جھوٹے گواہوں کو ڈانٹ پلائی اور فرمایا : میرے پاس کسی جھوٹے گواہ کو نہ لایا جائے مگر میں اس کے ساتھ ایسا اور ایسا معاملہ کروں گا راوی نے فرمایا : پھر آپ نے ان دونوں گواہوں کو طلب کیا تو ان کو نہ پایا سو آپ نے اس شخص کو آزاد چھوڑد یا۔