(۲۹۴۳۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنِ الْمُجَالِدِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ ؛ أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الذِّمَّۃِ ، مِنْ نُبَیْطِ أَہْلِ الشَّامِ نَخَسَ بِامْرَأَۃٍ عَلَی دَابَّۃٍ ، فَلَمْ تَقَعْ ، فَدَفَعَہَا بِیَدِہِ فَصَرَعَہَا ، فَانْکَشَفَتْ عَنْہَا ثِیَابُہَا ، فَجَلَسَ لِیُجَامِعَہَا ، فَرُفِعَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَقَامَتْ عَلَیْہِ الْبَیِّنَۃُ ، فَأَمَرَ بِہِ فَصُلِبَ ، وَقَالَ : لَیْسَ عَلَی ہَذَا عَاہَدْنَاکُمْ۔
(٢٩٤٣٥) حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ ایک ذمی آدمی نے جس کا تعلق شام کے نبطی قبیلہ سے تھا اس نے ایک عورت کی پہلو میں لکڑی ماری جو سواری پر سوار تھی پس وہ نیچے نہیں گری تو اس نے اس کو ہاتھ سے دھکا دیا اور اسے نیچے گرادیا اور اس عورت کے کپڑے کھل گئے۔ پھر وہ بیٹھ گیا تاکہ اس سے جماع کرلے پس اس شخص کو حضرت عمر بن خطاب کی خدمت میں پیش کیا گیا اور اس پر بینہ بھی قائم ہوگیا پھر آپ کے حکم سے اس کو سولی پر لٹکا دیا گیا اور آپ نے فرمایا : اس کام پر ہم نے تم سے معاہدہ نہیں کیا تھا !