(۲۹۴۳۸) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ؛ أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَقَرَّ عَلَی نَفْسِہِ بِالزِّنَی ، قَالَ : وَبِمَنْ ، قَالَ : بِفُلاَنَۃَ مَوْلاَۃِ ابْنِ فُلاَنٍ ، فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا فَأَنْکَرَتْ ، فَخَلَّی سَبِیلَہَا ، وَأَخَذَہُ بِمَا أَقَرَّ عَلَی نَفْسِہِ ، وَلَمْ یُذْکَرْ أَنَّہُ جَلَدَہُ حَدَّ الْفِرْیَۃِ فِیہَا۔ (احمد ۳۳۹)
(٢٩٤٣٨) حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور انھوں نے خود زنا کا اقرار کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا ! کس کے ساتھ ؟ انھوں نے کہا : فلاں عورت کے ساتھ جو ابن فلاں کی باندی ہے۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کی طرف قاصد بھیجا اس نے انکار کردیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور ان کو پکڑ لیا جس نے خود زنا کا اقرار کیا تھا اور یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو تہمت کی حد لگائی تھی۔