(۲۹۴۵۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا ، فَجَائَتْ بِحَمْلٍ ، فَانْتَفَی مِنْہُ ؟ قَالَ : فَقَالَ : یُلاَعِنْ ، قَالَ : فَقَالَ الْحَارِثُ : یَا أَبَا عَمْرو ، إِنَّ اللَّہَ قَالَ فِی کِتَابِہِ : (وَالَّذِینَ یَرْمُونَ أَزْوَاجَہُمْ) ، أَفَتَرَاہَا لَہُ زَوْجَۃً ؟ قَالَ : فَقَالَ الشَّعْبِیُّ : إِنِّی لأَسْتَحِی إِذَا رَأَیْتُ الْحَقَّ أَنْ لاَ أَرْجِع إِلَیْہِ۔
(٢٩٤٥٤) حضرت مغیرہ فرماتے ہں ل کہ حضرت شعبی سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں۔ پھر وہ حاملہ ہو کر آئی اور اس نے حمل کی نفی کردی ؟ آپ نے فرمایا : وہ لعان کرے گا راوی کہتے ہیں حضرت حارث نے فرمایا : اے ابو عمر ! یقیناً اللہ رب العزت نے اپنی کتاب میں یوں فرمایا ہے ! وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں کیا اس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی ہے ؟ اس پر حضرت شعبی نے فرمایا : بیشک مجھے حیا آتی ہے کہ جب میں حق بات کو پہچان لوں اور اس کی طرف رجوع نہ کروں۔