(۲۹۴۸۰) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیِمِ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : أَرَأَیْتَ لَوْ کُنْتَ الْقَاضِیَ وَالْوَالِیَ ، ثُمَّ أَبْصَرْتَ إِنْسَانًا عَلَی حَدٍّ ، أَکُنْتَ مُقِیمًا عَلَیْہِ ؟ قَالَ : لاَ ، حَتَّی یَشْہَدَ مَعِی غَیْرِی ، قَالَ : أَصَبْتَ ، وَلَوْ قُلْتَ غَیْرَ ذَلِکَ لَمْ تُجِدْ۔
(٢٩٤٨٠) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے دریافت کیا؍ تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر تم قاضی اور حاکم ہو پھر تم کسی شخص کو کسی حد کے کام میں مبتلا دیکھو تو کیا تم اس پر حد قائم کرو گے یا نہیں ؟ انھوں نے جواب دیا : نہیں، یہاں تک کہ اس کے ساتھ کوئی اور بھی گواہی دے آپ نے فرمایا : تم نے درست بات کی اور اگر تم اس کے علاوہ کوئی بات کہتے تو تم صحیح نہ ہوتے۔