(۲۹۵۲۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بِکِتَابٍ قَرَأْتُہُ : إِذَا وُجِدَ الْمَتَاعُ مَعَ الرَّجُلِ الْمُتَّہم فَقَالَ : ابْتَعْتَہُ ، فَلَمْ ینفذہُ ، فَاشْدُدْہُ فِی السِّجْنِ وَثَاقًا ، وَلاَ تَحُلَّہُ بِکَلاَمِ أَحَدٍ حَتَّی یَأْتِیَ فِیہِ أَمْرُ اللہِ ، قَالَ : فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعَطَائٍ ، فَأَنْکَرَہُ۔
(٢٩٥٢٦) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک خط لکھا تھا میں نے اسے پڑھا : جب سامان تہمت زدہ آدمی کے پاس پایا جائے اور وہ کہے : میں نے اسے خریدا ہے، لیکن اسے استعمال نہیں کیا۔ اسے قید خانے میں ڈال دیا جائے گا اور اس کے ساتھ کسی کے کلام کو درست قرار نہ دو ۔ یہاں تک کہ اللہ حقیقت کو آشکارا کر دے۔ میں نے بات کا ذکر حضرت عطاء سے کیا تو انھوں نے اسے عجیب قرار دیا۔