hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 29582

.

ابن أبي شيبة

29582
Ibn Abi Shaybah
(۲۹۵۸۳) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَن نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّ جَارِیَۃً لِحَفْصَۃَ سَحَرَتْہَا ، وَوَجَدُوا سِحْرَہَا ، وَاعْتَرَفَتْ ، فَأَمَرَت عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنُ زَیْدٍ فَقَتَلَہَا ، فَبَلَغَ ذَلِکَ عُثْمَانَ فَأَنْکَرَہُ ، وَاشْتَدَّ عَلَیْہِ ، فَأَتَاہُ ابْنُ عُمَرَ فَأَخْبَرَہُ أَنَّہَا سَحَرَتْہَا ، وَوَجَدُوا سِحْرَہَا ، وَاعْتَرَفَتْ بِہِ ، فَکَأَنَّ عُثْمَانُ إِنَّمَا أَنْکَرَ ذَلِکَ لأَنَّہَا قُتِلَتْ بِغَیْرِ إِذْنِہِ۔
(٢٩٥٨٣) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے ارشاد فرمایا : حضرت حفصہ کی ایک باندی نے ان پر جادو کردیا اور لوگوں نے اس کو جادو کرتا ہوا پا لیا، اور اس نے اعتراف بھی کرلیا۔ حضرت حفصہ نے حضرت عبدالرحمن بن زید کو حکم دیا تو آپ نے اسے قتل کردیا، جب یہ خبر حضرت عثمان کو پہنچی تو آپ نے اس بات کو پسند نہیں کیا اور اس پر غصہ کا اظہار کیا۔ سو حضرت ابن عمر آپ کے پاس تشریف لائے اور انھیں خبر دی کہ بیشک اس نے آپ پر جادو کردیا تھا، اور لوگوں نے اس کو جادو کرتا ہوا بھی پایا تھا، اور اس جادو گرنی نے اس کا اعتراف بھی کیا تھا۔ تو گویا حضرت عثمان نے اس بات کو ناپسند کیا اس لیے کہ اسے آپ کی اجازت کے بغیر قتل کیا گیا تھا۔