(۲۹۶۴۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ عُلاَثَۃَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْعُقَیْلِیِّ ، قَالَ : قَذَفَ رَجُلٌ رَجُلاً ، فَرَفَعَہُ إِلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فَادَّعَی الْقَاذِفُ الْبَیِّنَۃَ عَلَی مَا قَالَ لَہُ بِأَرْمِینِیَّۃَ ، یَعْنِی غَیْبًا ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ: الْحَدُّ لاَ یُؤَخَّرُ ، لَکِنْ إِنْ جِئْتَ بِبَیِّنَۃٍ قَبِلْتُ شَہَادَتَہُمْ۔
(٢٩٦٤٥) حضرت ابو علاثہ محمد بن عبداللہ عقیلی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی آدمی پر تہمت لگائی۔ سو اس شخص کو حضرت عمر بن عبدالعزیز کے سامنے پیش کردیا گیا، پس تہمت لگانے والے نے بینہ کے متعلق دعویٰ کیا کہ ایک شخص نے اسے آرمینیہ میں بتلایا تھا یعنی وہ غائب ہے۔ اس پر حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا : حد کو مؤخر نہیں کیا جاسکتا، لیکن اگر تم بینہ لے آئے تو میں ان کی گواہی قبول کرلوں گا۔