(۲۹۶۵۴) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَن فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَن مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ أَنَّہُ سُئِلَ ، عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً فَمَاتَ عنہا وَلَمْ یَدْخُلْ بِہَا وَلَمْ یَفْرِضْ لَہَا صَدَاقًا قَالَ عَبْدُ اللہِ : لَہَا الصَّدَاقُ وَلَہَا الْمِیرَاثُ وَعَلَیْہَا الْعِدَّۃُ ، وَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ : شَہِدْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَضَی فِی بِرْوَعَ ابنَۃ وَاشِقٍ بِمِثْلِ ذَلِکَ۔
(٢٩٦٥٤) حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود سے ایک آدمی کے متعلق پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی پھر وہ مرگیا اور اس آدمی نے اس سے ہمبستری نہیں کی تھی اور نہ ہی اس کا مہر مقرر کیا تھا، اب اس کیا ہوگا ؟ تو حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ اس عورت کو مہر مثلی ملے گا اور وراثت بھی ملے گی اور اس پر عدت بھی واجب ہوگی۔ اس پر معقل بن سنان نے فرمایا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بروع بنت واشق کے بارے میں بالکل ایسا ہی فیصلہ فرمایا تھا۔