(۲۹۶۷۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَوْفٍ قَالَ : قرِئَ عَلَیْنَا کِتَابُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَیُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَأَدْرَکَ رَجُلٌ مَتَاعَہُ بِعَیْنِہِ ، فَہُوَ أَحَقُّ بِہِ مِنْ سَائِرِ الْغُرَمَائِ إلا أن یکون اقتضی من مالہ شیئًا ، فہو أسوۃ الغرماء ، قَضَی بِذَلِکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
(٢٩٦٧٢) حضرت عوف فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کا خط پڑھ کر سنایا گیا : کہ جو کوئی بھی مفلس ہوگیا پھر کسی آدمی نے اپنا ذاتی سامان اس شخص کے پاس پا لیا تو وہ اکیلا تمام قرض خواہوں سے اس مال کا زیادہ حق دار ہوگا مگر یہ کہ اس نے اس مفلس کے مال سے کچھ حصہ لے لیا ہو تو باقی مال تمام قرض خواہوں کے لیے برابر ہوگا۔ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طریقہ سے یہ فیصلہ فرمایا تھا۔