(۲۹۶۸۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ عَبْدِالأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ: دَعَانِی عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ فَسَأَلَنِی عَنِ الْقَسَامَۃِ فَقَالَ : إِنَّہُ قَدْ بَدَا لِی أَنْ أَرُدَّہَا إِنَّ الأَعْرَابِیَّ یَشْہَدُ ، وَالرَّجُلُ الْغَائِبُ یَجِیئُ فَیَشْہَدُ ، فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إِنَّک لَنْ تَسْتَطِیعَ رَدَّہَا ، قَضَی بِہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْخُلَفَائُ بَعْدَہُ۔
(٢٩٦٨٧) امام زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے مجھے بلایا اور قسامت کے متعلق پوچھا ؟ اور کہنے لگے کہ میرا یہ خیال ہو رہا ہے کہ میں اس کو ختم کر دوں۔ کیونکہ ایک بدّو آ کر گواہی دیتا ہے اور اسی طریقہ سے ایک ایسا آدمی جو موقع سے غائب ہوتا ہے وہ آتا ہے اور وہ گواہی دے دیتا ہے۔ تو امام زہری فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے امیر المؤمنین ! اس کو ختم کرنا آپ کی استطاعت میں نہیں ہے کیونکہ خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اور ان کے بعد خلفاء راشدین نے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔