(۲۹۷۰۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : بَعَثَنِی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی أَہْلِ الْیَمَنِ لأَقْضِیَ بَیْنَہُمْ ، قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ : إِنَّہ لاَ عِلْمَ لِی بِالْقَضَائِ ، فَضَرَبَ بِیَدِہِ عَلَی صَدْرِی ، وَقَالَ : اللَّہُمَّ اہْدِ قَلْبَہُ وَسَدِّدْ لِسَانَہُ ، قَالَ : فَمَا شَکَکْت فِی قَضَائٍ بَیْنَ اثْنَیْنِ حَتَّی جَلَسْت مَجْلِسِی ہَذَا۔ (احمد ۸۸۔ حاکم ۸۸)
(٢٩٧٠٨) حضرت علی فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یمن والوں کی طرف قاضی بنا کر بھیجا تاکہ میں ان کے درمیان فیصلے کروں۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے تو فیصلہ سے متعلق کوئی علم نہیں ہے ؟ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ مبارک میرے سینہ پر مارا اور فرمایا : اے اللہ اس کے دل کو ہدایت نصیب فرما اور اس کی زبان کو سیدھا فرما دے۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ جب سے میں اس جگہ میں بیٹھا ہوں تو مجھے کبھی بھی دو بندوں کے درمیان کسی فیصلہ میں شک نہیں ہوا۔