(۲۹۷۱۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَن سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ ، وَقَالَ : الْقَسَامَۃُ حَقٌّ قَضَی بِہَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَمَا الأَنْصَارُ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْہُمْ ، ثُمَّ خَرَجُوا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَإِذَا ہُمْ بِصَاحِبِہِمْ یَتَشَحَّطُ فِی دَمِہِ ، فَرَجَعُوا إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا : قَتَلَتْنَا یَہُود ، وَسَمُّوا رَجُلاً مِنْہُمْ ، وَلَمْ تَکُنْ لَہُمْ بَیِّنَۃٌ، فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : شَاہِدَانِ مِنْ غَیْرِکُمْ حَتَّی أَدْفَعَہُ إِلَیْکُمْ بِرُمَّتِہِ ، فَلَمْ تَکُنْ لَہُمْ بَیِّنَۃٌ فَقَالَ : اسْتَحَقُّوا بخمسین قَسَامَۃً أَدْفَعُہُ إِلَیْکُمْ بِرُمَّتِہِ ، فقَالُوا : إِنَّا نَکْرَہُ أَنْ نَحْلِفَ عَلَی غَیْبٍ ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَأْخُذَ قَسَامَۃَ الْیَہُودِ بِخَمْسِینَ مِنْہُمْ ، فَقَالَتِ الأَنْصَارُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّ الْیَہُودَ لاَ یُبَالُونَ الْحَلِفَ ، مَتَی نَقْبَلُ ہَذَا مِنْہُمْ یَأْتُونَا عَلَی آخِرِنَا ، فَوَدَاہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ عَندِہِ۔
(٢٩٧١٥) حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ قسامت کا معاملہ برحق ہے ، کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ ہم انصار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے کہ انصار میں سے ایک آدمی نکل گیا ، اچانک انھوں نے اپنے ساتھی کو دیکھا کہ وہ خون میں لت پت پڑا تڑپ رہا ہے ! تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس لوٹے اور کہنے لگے کہ یہود نے ہمارے آدمی کو قتل کردیا اور انھوں نے یہود کے ایک آدمی کا نام لیا، اور ان لوگوں کے پاس گواہی نہیں تھی، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : تمہارے علاوہ اگر دو گواہ گواہی دیں تو میں اس کو تمہارے حوالے کر دوں ؟ پس ان کے پاس گواہی نہیں تھی، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگ پچاس قسمیں اٹھا لو میں اس کو تمہارے حوالہ کر دوں گا ؟ تو انصار کہنے لگے : ہم ناپسند کرتے ہیں کہ اَن دیکھی بات پر قسم اٹھائیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پچاس یہودیوں سے قسمیں لینا چاہیں تو انصار کہنے لگے : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بیشک یہود قسم کی پروا نہیں کرتے ہم کس طرح ان کی قسمیں قبول کرلیں یہ تو پھر ہمارے دوسرے لوگوں کو مار دیا کریں گے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مقتول کی اپنے پاس سے دیت عطاء فرمائی۔