(۲۹۷۱۷) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ النَّجْرَانِیِّ قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عمَرَ : أُسْلِمُ فِی نَخْلٍ قَبْلَ أَنْ یُطْلِعَ ، قَالَ : لاَ ، قُلْتُ : لِمَ ؟ قَالَ : إِنَّ رَجُلاً أَسْلَمَ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی حَدِیقَۃِ نَخْلٍ قَبْلَ أَنْ تُطْلِعَ ، فَلَمْ تُطْلِعْ شَیْئًا ذَلِکَ الْعَامَ ، فَقَالَ الْمُشْتَرِی : ہُوَ لِی حَتَّی تُطْلِعَ ، وَقَالَ الْبَائِعُ : إِنَّمَا بِعْتُک النَّخْلَ ہَذِہِ السَّنَۃَ، فَاخْتَصَمَا إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلْبَائِعِ : أَجَدَّ مِنْ نَخْلِکَ شَیْئًا ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَہُ ؟ ارْدُدْ عَلَیْہِ مَا أَخَذْت مِنْہُ ، وَلا تُسْلِمُوا فِی نَخْلٍ حَتَّی یَبْدُوَ صَلاحُہُ۔ (ابوداؤد ۳۴۶۱۔ احمد ۱۵)
(٢٩٧١٧) حضرت النجرانی فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر سے پوچھا : کھجور کے درختوں میں شگوفے نکلنے سے پہلے بیع سلم کی جاسکتی ہے ؟ ابن عمر نے فرمایا : نہیں کی جاسکتی۔ میں نے پوچھا : کیوں نہیں ہوسکتی ؟ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ایک آدمی نے کھجور کے درختوں میں شگوفے نکلنے سے پہلے بیع سلم کی تھی، تو اس سال کوئی شگوفہ نہیں نکلا تو مشتری کہنے لگا : یہ میری ملکیت میں ہوں گے جب تک کہ شگوفے نکل آئیں اور بائع نے کہا : میں نے تو درخت صرف اس سال کے لیے فروخت کیے تھے، تو دونوں آدمی جھگڑا لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بائع سے فرمایا : کیا مشتری نے تمہارے درخت میں سے کچھ کاٹا ہے ؟ بائع نے کہا : کچھ نہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو پھر اس کا مال تمہارے لیے کیونکر حلال ہوسکتا ہے ؟ جو کچھ تم نے اس سے لیا ہے اس کو واپس کر ۔ اور آئندہ کوئی کھجور کے درخت میں بیع سلم نہ کرے یہاں تک کہ پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہوجائے۔