(۲۹۷۲۴) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حدَّثَنَا ہَمَّامٌ ، َدَّثَنَا قَتَادَۃُ ، عَن عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إِنَّ زَوْجَ بَرِیرَۃَ کَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ یُسَمَّی مُغِیثًا ، فَقَضَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیہَا أَرْبَعَ قَضِیَّاتٍ ، قَضَی أَنَّ مَوَالِیَہَا اشْتَرَطُوا الْوَلائَ ، فَقَضَی أَنَّ الْوَلائَ لِمَنْ أَعْطَی الثَّمَنَ ، وَخَیَّرَہَا ، وَأَمَرَہَا أَنْ تَعْتَدَّ ، وَتُصُدِّقَ عَلَیْہَا بِصَدَقَۃٍ ، فَأَہْدَتْ مِنْہا إِلَی عَائِشَۃَ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : ہُوَ لَہَا صَدَقَۃٌ وَلَنَا ہَدِیَّۃٌ۔
(بخاری ۵۲۸۰۔ ابوداؤد ۲۲۲۵)
(٢٩٧٢٤) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ بریرہ کا شوہر حبشی کالا غلام تھا جس کا نام مغیث تھا ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بریرہ کے بارے میں چار فیصلے فرمائے تھے ! بریرہ کے آزاد کرنے والوں نے حق ولاء کی شرط لگائی تھی پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ حق ولاء اس شخص کو ملے گا جو ثمن ادا کرے گا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو زوج کے بارے میں اختیار دیا تھا اور ان کو حکم دیا کہ وہ عدت گزاریں۔ اور بریرہ کو کچھ صدقہ ملا تھا انھوں نے اس میں سے کچھ حصہ حضرت عائشہ کو ہدیہ دیا تھا تو حضرت عائشہ نے یہ بات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ذکر فرمائی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ صدقہ ہے اس کے لیے اور ہدیہ ہے ہمارے لیے۔