(۲۹۷۲۶) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِیِّ ، عَن حُمَیْدٍ الأَعْرَجِ ، عَن طَارِقٍ الْمَکِّیِّ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قضَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی امْرَأَۃٍ مِنَ الأَنْصَارِ أَعْطَاہَا ابْنُہَا حَدِیقَۃً مِنْ نَخْلٍ فَمَاتَتْ ، فَقَالَ ابْنُہَا : إِنَّمَا أَعْطَیْتہَا حَیَاتَہَا ، وَلَہُ إِخْوَۃٌ ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ہِیَ لَہَا حَیَاتَہَا وَمَوْتَہَا ، قَالَ : فإِنی کُنْتُ تَصَدَّقْتُ بِہَا عَلَیْہَا ، قَالَ : فَذَاکَ أَبْعَدُ لَک۔ (ابوداؤد ۳۵۵۲۔ بیہقی ۱۷۴)
(٢٩٧٢٦) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کی ایک عورت کے بارے میں فیصلہ فرمایا جسے اس کے بیٹے نے کھجور کا ایک باغ عطیہ دیا تھا پس وہ عورت مرگئی تو اس کا بیٹا کہنے لگا میں نے تو یہ باغ اپنی ماں کو صرف ان کی زندگی کے لیے دیا تھا ، اور اس انصاری کا بھائی بھی تھا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ ہدیہ ان کی زندگی اور موت دونوں کے لیے شمار ہوگا ۔ انصاری کہنے لگے : یقیناً میں نے تو یہ باغ ان پر صدقہ کیا تھا ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پس اب تو یہ تیرے لیے بہت بعید ہے۔