(۲۹۷۳۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، وَعَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَن زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: لاَ أَقُولُ لَکُمْ إِلاَّ مَا کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : اللَّہُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَالْہَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، اللَّہُمَّ آتِ نَفْسِی تَقْوَاہَا، أَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَوْلاہَا، أَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاہَا ، اللَّہُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لاَ یَنْفَعُ، وَنَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ ، وَقَلْبٍ لاَ یَخْشَعُ، وَدُعَائٍ لاَ یُسْتَجَابُ۔
(٢٩٧٣٤) حضرت عبداللہ بن الحارث فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن أرقم ایک مرتبہ فرمانے لگے : میں تمہارے لیے وہی دعا کہتا ہوں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہا کرتے تھے : اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجز آنے سے، اور سستی سے، کنجوسی سے اور بزدلی سے ، بڑھاپے سے اور قبر کے عذاب سے، اے اللہ ! تو میرے نفس کو متقی بنا دے تو ہی اس کا سرپرست اور آقا ہے، تو بہتر پاکیزہ بنانے والا ہے، اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے، اور ایسے نفس سے جو کبھی سیر نہ ہو سکے، اور ایسے دل سے جو ڈرتانہ ہو، اور ایسی دعا سے جو قبول نہ کی جائے۔