hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 29767

.

ابن أبي شيبة

29767
Ibn Abi Shaybah
(۲۹۷۶۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَن صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللہِ وَکَانَتْ تَحْتَہُ الدَّرْدَائُ ، فَأَتَاہَا فَوَجَدَ أُمَّ الدَّرْدَائِ وَلَمْ یَجِدْ أَبَا الدَّرْدَائَ ، فَقَالَتْ لَہُ : تُرِیدُ الْحَجَّ الْعَامَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَتْ : فَادْعُ اللَّہَ لَنَا بِخَیْرٍ فَإِنَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُولُ : إنَّ دَعْوَۃَ الْمَرْئِ مُسْتَجَابَۃٌ لأَخِیہِ بِظَہْرِ الْغَیْبِ عِنْدَ رَأْسِہِ مَلَکٌ یُؤَمِّنُ عَلَی دُعَائِہِ کُلَّمَا دَعَا لَہُ بِخَیْرٍ قَالَ : آمِینَ ، وَلَک بِمِثْلِہِ ، ثُمَّ خَرَجْت إِلَی السُّوقِ فَلَقِیتُ أَبَا الدَّرْدَائِ فَحَدَّثَنِی ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِکَ۔ (مسلم ۲۰۹۵۔ ابن ماجہ ۲۸۹۵)
(٢٩٧٦٨) حضرت ابو الزبیر فرماتے ہیں کہ حضرت صفوان بن عبداللہ بن صفوان جن کے نکاح میں حضرت درداء ہیں وہ اپنی بیوی کے پاس تشریف لائے تو حضرت ام الدردا کو ان کے پاس پایا اور حضرت ابو الدردائ وہاں نہیں تھے۔ پس حضرت ام الدردائ ان سے فرمانے لگیں : کیا آپ کا اس سال حج کرنے کا ارادہ ہے ؟ صفوان نے کہا : جی ہاں، حضرت ام الدردائ نے کہا : ہمارے حق میں بھی خیر کی دعا کرنا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے : بیشک آدمی کی دعا اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں قبول کی جاتی ہے اس دعا کرنے والے کے سر کے قریب ایک فرشتہ ہوتا ہے جو اس کی دعا پر آمین کہتا ہے، جب بھی وہ اپنے بھائی کے حق میں خیر کی دعا کرتا ہے، فرشتہ کہتا ہے : آمین، اور تجھے بھی یہی چیز عطا ہو، پھر صفوان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں بازار کی طرف گیا تو میری ملاقات حضرت ابو الدردائ سے ہوگئی، پس انھوں نے بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی۔