(۲۹۷۸۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَلِیٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِیَّ قَالَ : قَالَ أَبُو سَعِیدٍ قَالَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَدْعُو بِدَعْوَۃٍ لَیْسَ فِیہَا إِثْمَ وَلا قَطِیعَۃُ رَحِمٍ إِلاَّ أَعْطَاہُ اللَّہُ بِہَا إحْدَی ثَلاثٍ : إمَّا أَنْ یُعَجِّلَ لَہُ دَعْوَتَہُ ، وَإِمَّا یَدَّخِرَہَا لَہُ فِی الآخِرَۃِ ، وَإِمَّا أَنْ یَکْشِفَ عَنہُ من السُّوئَ بِمِثْلِہَا، قَالُوا : إذًا نُکْثِرُ یَا نبی اللہ ، قَالَ : اللَّہُ أَکْثَرُ۔ (بخاری ۷۱۰۔ احمد ۱۸)
(٢٩٧٨٠) حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بھی کوئی مسلمان دعا کرتا ہے اور اس کی دعا میں کوئی گناہ اور قطع رحمی کی بات نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو تین باتوں میں ایک عطاء فرماتے ہیں : یا تو اس شخص کے لیے جلد ہی اس کی دعا کو پورا فرما دیتے ہیں یا اس کی دعا کو آخرت میں ذخیرہ فرما دیتے ہیں یا اس سے اس جیسی کوئی بُرائی دور فرما دیتے ہیں ، صحابہ نے کہا : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تب تو ہم کثرت سے دعائیں مانگیں گے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فریایا : اللہ بھی کثرت سے عطا فرمائے گا۔