(۲۹۸۰۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ ، أَخْبَرَنَا ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَن أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ، ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَی دِینِکَ ، قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّک تَدْعُو بِہَذَا الدُّعَائِ ، قَالَ : یَا عَائِشَۃُ ، أَو مَا عَلِمْتِ أَنَّ الْقُلُوبَ ، أَوْ قَالَ : قَلْبَ ابْنِ آدَمَ بَیْنَ إصْبَعَی اللہِ، إذَا شَائَ أَنْ یُقَلِّبَہُ إِلَی ہُدَی قَلَبَہُ ، وَإِذَا شَائَ أَنْ یُقَلِّبَہُ إِلَی ضَلالَۃِ قَلَبَہُ ۔ (نسائی ۷۷۳۷۔ احمد ۲۵۰)
(٢٩٨٠٩) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا فرماتے تھے : اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطا فرما، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ یہ دعا فرما رہے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے عائشہ ! کیا تو نہیں جانتی کہ لوگوں کے دل، یا یوں فرمایا : آدم کے بیٹے کا دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے ، اللہ جب چاہتے ہیں اس کے دل کو ہدایت کی طرف پھیر دیتے ہیں ، اور جب چاہتے ہیں اس کے دل کو گمراہی کی طرف پھیر دیتے ہیں ؟ “