(۲۹۸۱۳) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن مُجَاہِدٍ ، عَنِ ابْنِ ضَمْرَۃَ ، عَن کَعْبٍ قَالَ : إذَا خَرَجَ الرَّجُلُ مِنْ مَنْزِلِہِ اسْتَقْبَلَتْہُ الشَّیَاطِینُ ، فَإِذَا قَالَ بِسْمِ اللہِ قَالَتِ الْمَلائِکَۃُ : ہُدِیتَ ، وَإِذَا قَالَ : تَوَکَّلْت عَلَی اللہِ قَالَتْ: کُفِیت ، وَإِذَا قَالَ لاَ حَوْلَ وَلا قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ قَالَتْ : حُفِظْت ، فَتَقُولُ الشَّیَاطِینُ بَعْضُہَا لِبَعْضٍ : مَا سَبِیلُکُمْ عَلَی مَنْ کُفِیَ وَہُدِیَ وَحُفِظَ۔ (ابوداؤد ۵۰۵۴۔ عبدالرزاق ۱۹۸۲۷)
(٢٩٨١٣) حضرت کعب فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنے گھر سے نکلتا ہے تو بہت سارے شیاطین اس کا استقبال کرتے ہیں، پس جب وہ کہتا ہے : میں اللہ کا نام لے کر گھر سے نکلا ، فرشتے کہتے ہیں : تجھے ہدایت دی گئی، اور جب وہ آدمی کہتا ہے : میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں، فرشتے کہتے ہیں : تیری کفایت کی گئی ہے، اور جب وہ آدمی کہتا ہے : گناہوں سے بچنے اور عبادت کرنے کی طاقت اللہ ہی کی طرف سے ہے، فرشتے کہتے ہیں : تیری حفاظت کی گئی ہے۔ پس پھر شیاطین ایک دوسرے سے کہتے ہیں : تم لوگ کیسے اس شخص پر سرکشی کرسکتے ہو جس کی کفایت کی گئی ہو، اور جس کو ہدایت دی گئی ہو، اور جس کی حفاظت کی گئی ہو۔