(۲۹۸۱۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَن عُمَارَۃَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا کَبَّرَ سَکَتَ بَیْنَ التَّکْبِیرِ وَالْقِرَائَۃِ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَہُ : بِأَبِی وَأُمِّی ، أَرَأَیْت سُکُوتَکَ بَیْنَ التَّکْبِیرِ وَالْقِرَائَۃِ ، أَخْبِرْنِی مَا تَقُولُ ؟ قَالَ : أَقُولُ : اللَّہُمَّ بَاعِدْ بَیْنِی وَبَیْنَ خَطَایَایَ کَمَا بَاعَدْت بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ : اللَّہُمَّ نَقِّنِی مِنْ خَطَایَایَ کَالثَّوْبِ الأَبْیَضِ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّہُمَّ اغْسِلْنِی مِنْ خَطَایَایَ بِالْمَائِ وَالْبَرَدِ وَالثَّلْجِ۔ (مسلم ۱۴۹۔ ابن ماجہ ۸۰۵)
(٢٩٨١٨) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز کے لیے تکبیر کہتے تھے تو تکبیر اور قراءت کے درمیان کچھ دیر خاموش رہتے تھے، ابوہریرہ کہتے ہیں : میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : میرے ماں ، باپ آپ پر قربان ہوں ، میں تکبیر اور قراءت کے درمیان آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خاموش رہنے کو دیکھتا ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے بتائیے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا پڑھتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں یہ دعا پڑھتا ہوں : اے اللہ ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنا لمبا فاصلہ کر دے جتنا مشرق و مغرب کے درمیان ہے، اے اللہ ! آپ مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک و صاف کردیں جیسے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک و صاف فرماتے ہیں، اے اللہ ! مجھ سے میرے گناہوں کو پانی ، اولے اور بارانی برف سے دھو دیں۔