(۲۹۸۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ الأَنْصَارِیِّ قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ یزِید بْنِ رَبِیعَۃَ الدِّمَشْقِیُّ قَالَ: قَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ: أَدْلَجْت ذَاتَ لَیْلَۃٍ إِلَی الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا دَخَلْت مَرَرْت عَلَی رَجُلٍ سَاجِدٍ وَہُوَ یَقُولُ: اللَّہُمَّ إنِّی خَائِفٌ مُسْتَجِیرٌ فَأَجِرْنِی مِنْ عَذَابِکَ ، وَسَائِلٌ فَقِیرٌ فَارْزُقْنِی مِنْ فَضْلِکَ ، لاَ بَرِیئَ مِنْ ذَنْبٍ فَأَعْتَذِرَ ، وَلا ذُو قُوَّۃٍ فَأَنْتَصِرَ ، وَلَکِنْ مُذْنِبٌ مُسْتَغْفِرٌ ، فَأَصْبَحَ أَبُو الدَّرْدَائِ یُعَلِّمُہُنَّ أَصْحَابَہُ إعْجَابًا بِہِا۔
(٢٩٨٤٥) حضرت عبداللہ بن یزید دمشقی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدردائ نے ارشاد فرمایا : میں ایک رات مسجد میں داخل ہوا، جب میں داخل ہوگیا تو میرا گزر ایک آدمی پر ہوا جو سجدے کی حالت میں یہ دعا کررہا تھا : اے اللہ ! میں ڈرنے والا، پناہ مانگنے والا ہوں پس آپ مجھے اپنے عذاب سے پناہ دیجیے، اور میں سوالی ، بھیک مانگنے والا ہوں آپ اپنی مہربانی سے مجھے رزق عطا فرما دیجیے، اور میں گناہوں سے بری نہیں ہوں آپ میرا عذر قبول فرما لیجیے، اور نہ ہی میں طاقت والا ہوں آپ ظالموں سے میری حفاظت فرما دیجیے، لیکن میں گناہ کر کے معافی مانگنے والا ہوں پھر حضرت ابو الدردائ یہ دعا اپنے شاگردوں کو سکھلانا شروع کردی پسند آنے کی وجہ سے۔