(۲۹۸۷۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ أَبِی عُمَرَ الصینی وَعَن سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ سَمِعَہُ مِنْ أَبِی عُمَرَ ، عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ذَہَبَ الأَغْنِیَائُ بِالأَجْرِ ، یُصَلُّونَ کَمَا نُصَلِّی ، وَیَصُومُونَ کَمَا نَصُومُ ، وَیَحُجُّونَ کَمَا نَحُجُّ ، وَیَتَصَدَّقُونَ ، وَلا نَجِدُ مَا نَتَصَدَّقُ قَالَ : فَقَالَ : أَلا أَدُلُّکُمْ عَلَی شَیْئٍ إذَا فَعَلْتُمُوہُ أَدْرَکْتُمْ مَنْ سَبَقَکُمْ ، وَلا یُدْرِکُکُمْ مَنْ بَعْدَکُمْ إِلاَّ مَنْ عَمِلَ بِالَّذِی تَعْمَلُونَ : تُسَبِّحُونَ اللَّہَ ثَلاثًا وَثَلاثِینَ وَتَحْمَدُونَہُ ثَلاثًا وَثَلاثِینَ وَتُکَبِّرُونَہُ أَرْبَعًا وَثَلاثِینَ فِی دُبُرِ کُلِّ صَلاۃٍ۔
(احمد ۴۴۶۔ نسائی ۹۹۷۹)
(٢٩٨٧٧) حضرت ابو الدردائ فرماتے ہیں : میں نے ایک دن کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مالدار لوگ اجر وثواب میں ہم سے بڑھ گئے ہیں۔ وہ لوگ نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں، اور وہ لوگ روزے رکھتے ہیں جیسا کہ ہم روزے رکھتے ہیں، اور وہ لوگ حج بھی کرتے ہیں جیسا کہ ہم حج کرتے ہیں، اور وہ صدقہ بھی دیتے ہیں، اور ہم اتنا مال ہی نہیں پاتے جس کا صدقہ کریں ؟ حضرت ابو الدردائ کہتے ہیں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کو اگر تم کرو گے تو سبقت کرنے والوں کے اجر کو پہنچ جاؤ گے اور تمہارے بعد تمہارے اجر تک صرف وہی پہنچ سکے گا جو تمہاری طرح یہ عمل کرے گا : ” تم لوگ ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، اور تینتیس مرتبہ الحمد اللہ، اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہا کرو۔ “