(۲۹۸۸۹) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، حَدَّثَنَا عُبَادَۃُ بْنُ مُسْلِمٍ الْفَزَارِیّ ، حَدَّثَنَا جُبَیْرُ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، زَعَمَ أَنَّہُ کَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ فِی دُعَائِہِ حِینَ یُمْسِی وَحِینَ یُصْبِحُ لَمْ یَدَعْہُ حَتَّی فَارَقَ الدُّنْیَا ، أَوْ حَتَّی مَاتَ : اللَّہُمَّ إنِّی أسْأَلُک الْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ اللَّہُمَّ إنِّی أَسْأَلُک الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی دِینِی وَدُنْیَایَ وَأَہْلِی وَمَالِی ، اللَّہُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِی وَآمِنْ رَوْعَاتِی ، اللَّہُمَّ احْفَظْنِی مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِی ، وَعَن یَمِینِی وَعَن شِمَالِی وَمِنْ فَوْقِی ، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِکَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِی ، قَالَ جُبَیْرٌ : وَہُوَ الْخَسْفُ ، وَلا أَدْرِی : قَوْلُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَوْلُ جُبَیْرٍ۔ (نسائی ۷۹۷۱)
(٢٩٨٨٩) حضرت جبیر بن أبی سلیمان فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر کے ساتھ بیٹھا تھا تو آپ نے فرمایا : میں سنتا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح و شام یہ دعا فرمایا کرتے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دعا کو نہیں چھوڑا یہاں تک کہ دنیا چھوڑ گئے یا یوں فرمایا : یہاں تک کہ وصال فرما گئے : اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے اہل اور اپنے مال میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ ! میری پردہ داری فرما، اور میری گھبراہٹ کو بےخوفی و اطمینان سے بدل، اے اللہ ! میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے ، میری دائیں طرف سے، اور میری بائیں طرف سے اور میرے اوپر سے میری حفاظت کر، اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ اچانک اپنے نیچے سے ہلاک کیا جاؤں۔
حضرت جبیر فرماتے ہیں : اس کا مطلب ہے دھنسنا، اور میں نہیں جانتا کہ یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مراد ہے یا جُبیر کی۔