(۲۹۸۹۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَن بُکَیْر بْنِ الأَخْنَسِ قَالَ : مَنْ قَالَ حِینَ یُمْسِی وَیُصْبِحُ ثَلاثًا، اللَّہُمَّ إنِّی أَمْسَیْت أَشْہَدُ ، وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ : اللَّہُمَّ أَصْبَحْت أَشْہَدُ ، أَنَّہُ مَا أَصْبَحَ بِنَا مِنْ عَافِیَۃٍ وَنِعْمَۃٍ، فَمِنْک وَحْدَک ، لاَ شَرِیکَ لَکَ ، فَلَکَ الْحَمْدُ لَمْ یُسْأَلْ عَن نِعْمَۃٍ کَانَتْ فِی لَیْلَتِہِ تِلْکَ ، وَلا یَوْمِہِ ، إِلاَّ قَدْ أَدَّی شُکْرَہَا۔ (ابوداؤد ۵۰۳۴۔ ابن حبان ۸۶۱)
(٢٩٨٩٥) حضرت مسعر فرماتے ہیں کہ حضرت بکیر بن الاخنس نے ارشاد فرمایا : جو شخص صبح و شام تین مرتبہ یہ دعا پڑھے گا : اے اللہ ! میں نے شام کی میں گواہی دیتا ہوں، اور صبح کے وقت یوں کہے : اے اللہ ! میں نے صبح کی میں گواہی دیتا ہوں ، یقیناً آج کے دن ہم میں سے کسی پر جو عافیت اور نعمت ہے ، وہ صرف آپ کی جانب سے ہے، اس کی نعمت و عافیت کی عطا میں اور کوئی آپ کا شریک نہیں ہے، سو آپ کے لیے ہی تعریف ہے، اس آدمی کے پاس اس رات اور اس دن میں جو کوئی نعمت ہوگی اس کا سوال نہیں کیا جائے گا، مگر یہ کہ اس بندے نے اس نعمت کا شکر ادا کردیا ہوگا۔