(۲۹۹۳۵) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ قَالَ : أَخْبَرَنِی مَنْ رَأَی عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَاقِفًا بِعَرَفَۃَ یَدْعُو وَہُوَ یَقُولُ بِإِصْبَعِہِ ہَکَذَا یُشِیرُ بِہَا : اللَّہُمَّ زِدْ مُحْسِنَ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ إحْسَانًا وَراجِعْ بِمُسِیئِہِمْ إِلَی التَّوْبَۃِ ، ثُمَّ یَقُولُ ہَکَذَا ، ثُمَّ یُدِیرُ بِإِصْبَعِہِ : وَحُطَّ مَنْ وَرَائَہُمْ بِرَحْمَتِک۔
(٢٩٩٣٥) حضرت عبید بن عبد الملک فرماتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بتلایا ہے جس نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو مقام عرفات میں کھڑے ہو کر یہ دعا مانگتے ہوئے دیکھا ہے۔ وہ یوں فرما رہے تھے اور اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ بھی فرما رہے تھے۔ اے اللہ ! تو امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھلائی کرنے والوں کی بھلائی میں اضافہ فرما، اور ان کے گناہ کرنے والوں کو توبہ کی طرف پھیر دے۔ پھر اس طریقہ سے دعا فرمائی، اور اپنی انگلی کو بھی گھمایا اور تو اپنی رحمت کے ساتھ ان کا پیچھے سے احاطہ فرما۔