(۲۹۹۳۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ، عَن مَنْصُورٍ، عَن فُضَیْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَن زِیَادِ بْنِ الْحُصَیْنِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی أَبِی الْعَالِیَۃِ، فَلَمَّا أَرَدْت أَنْ أَخْرُجَ مِنْ عَندِہِ قَالَ : أَلا أُزَوِّدُک کَلِمَاتٍ عَلَّمَہُنَّ جِبْرِیلُ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلَی ؟ قَالَ : فَإِنَّہُ لَمَّا کَانَ بِآخِرَۃٍ کَانَ إذَا قَامَ مِنْ مَجْلِسِہِ قَالَ : سُبْحَانَک اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إلَہَ إِلاَّ أَنْتَ ، أَسْتَغْفِرُک وَأَتُوبُ إلَیْک ، قَالَ : فَقِیلَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا ہَؤُلائِ الْکَلِمَاتُ الَّتِی تَقُولُہُنَّ ؟ قَالَ : ہُنَّ کَلِمَاتٌ عَلَّمَنِیہِنَّ جِبْرِیلُ کَفَّارَاتٌ لِمَا یَکُونُ فِی الْمَجْلِسِ۔ (نسائی ۱۰۲۶۴)
(٢٩٩٣٩) حضرت زیاد بن الحصین فرماتے ہیں : میں حضرت ابو العالیہ کی خدمت میں حاضر ہوا، جب میں نے ان کے پاس سے نکلنے کا ارادہ کیا تو وہ فرمانے لگے : کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ بتادوں جو کلمات حضرت جبرائیل نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سکھلائے تھے ؟ حضرت زیاد فرماتے ہیں : کہ میں نے کہا : کیوں نہیں ؟ (ضرور سکھلائیں ) تو حضرت ابو العالیہ فرمانے لگے : جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجلس کے بالکل اخیر میں ہوتے اور مجلس سے اٹھنے لگتے تھے تو یہ کلمات پڑھتے : اے اللہ ! تو پاک ہے اور میں تیری حمد بیان کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ج ، میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں ا ورتیرے سامنے توبہ کرتا ہوں۔ حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں : پھر پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جو کلمات آپ نے کہے ہیں وہ کیا ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کلمات حضرت جبرائیل نے مجھے سکھائے ہیں، اور یہ مجلس میں ہونے والے کاموں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔