(۲۹۹۵۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبِی ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : أَتَتْ فَاطِمَۃُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُہُ خَادِمًا فَقَالَ لَہَا : مَا عِنْدِی مَا أُعْطِیک ، فَرَجَعَتْ فَأَتَاہَا بَعْدَ ذَلِکَ فَقَالَ : الَّذِی سَأَلْت أَحَبُّ إلَیْک أَمْ مَا ہُوَ خَیْرٌ مِنْہُ ، فَقَالَ : لَہَا عَلِیٌّ : قُولِی : لاَ ، بَلْ مَا ہُوَ خَیْرٌ مِنْہُ ، فَقَالَتْ فَقَالَ : قُولِی : اللَّہُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ مُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالإِنْجِیلِ وَالْقُرْآنِ الْعَظِیمِ ، أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَک شَیْئٌ وَأَنْتَ الآخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْئٌ ، وَأَنْتَ الظَّاہِرُ فَلَیْسَ فَوْقَک شَیْئٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُونَک شَیْئٌ ، اقْضِ عَنَّا الدَّیْنَ وأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ۔ (مسلم ۶۳۔ ترمذی ۳۴۸۱)
(٢٩٩٥٥) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ خادم مانگنے کے لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تشریف لائیں۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : تمہیں دینے کو میرے پاس اس وقت کچھ بھی نہیں ہے۔ پس وہ واپس لوٹ گئیں ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بعد خود ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا : جو چز تیرے نزدیک پسندیدہ تھی جس کا تو نے سوال کیا وہ عطا کروں یا اس سے بھی بہتر چیز ؟ یہ بات سن کر حضرت علی نے حضرت فاطمہ سے کہا : تم کہو : نہیں، بلکہ اس سے بھی بہتر چیز عطا کریں۔ حضرت فاطمہ نے ایسے ہی کہا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم یہ دعا پڑھ لیا کرو : اے اللہ ! ساتوں آسمانوں کے پروردگار اور عرش عظیم کے پروردگار، ہمارے پروردگار اور ہر چیز کے پروردگار، توراۃ ، انجیل اور قرآن عظیم کے اتارنے والے، تو ہی سب سے پہلا ہے تیرے سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی، تو ہی سب سے پچھلا ہے، تیرے بعد بھی کوئی چیز نہیں ہوگی ، اور تو ظاہر و آشکارا ہے، تیرے اوپر بھی کوئی چیز نہیں ہے ، اور تو ہی پوشیدہ ہے، تیرے نیچے بھی کوئی چیز نہیں ہے، تو مجھ سے قرض کو دور فرما دے، اور مجھے فقر سے بےنیاز کر دے۔