(۲۹۹۶۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : کَانَ مِنْ دُعَائِ عَمَّارٍ اللَّہُمَّ إنِّی أَسْأَلُک بِعِلْمِکَ الْغَیْبَ وَقُدْرَتِکَ عَلَی الْخَلْقِ أَنْ تُحْیِیَنِی مَا عَلِمْت الْحَیَاۃَ خَیْرًا لِی وَتَوَفَّنِی مَا عَلِمْت الْوَفَاۃَ خَیْرًا لِی ، اللَّہُمَّ أَسْأَلُک خَشْیَتَکَ فِی الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ ، وَأَسْأَلُک الْقَصْدَ فِی الْغِنَی وَالْفَقْرِ ، وَأَسْأَلُک الْعَدْلَ فِی الرِّضَائِ وَالْغَضَبِ ، اللَّہُمَّ حَبِّبْ إلَیَّ لِقَائَک وَشَوْقًا إلَیْک فِی غَیْرِ فِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ ، وَلا ضَرَّاء مَضَرَّۃٍ۔
(٢٩٩٦٠) حضرت مالک بن الحارث فرماتے ہیں کہ حضرت عمار یوں دعا کرتے : اے اللہ ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں آپ کے علم غیب کے ساتھ، اور مخلوق پر آپ کی قدرت کے ساتھ، کہ آپ مجھے زندہ رکھیں جب تک آپ جانیں کہ زندگی میرے حق میں بہتر ہے، اور مجھے وفات دے دیں جب آپ جان لیں کہ وفات میرے لیے بہتر ہے۔ اے اللہ ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں ظاہر اور پوشیدگی میں آپ کے خوف کا، اور میں آپ سے امیری اور فقیری میں میانہ روی مانگتا ہوں، اور میں آپ سے سوال کرتا ہوں غصہ اور خوشی میں اعتدال کا۔ اے اللہ ! میرے نزدیک اپنی ملاقات کو محوظب بنا دے، اور اپنی ملاقات کے شوق کو بھی جو نہ گمراہ کرنے والے فتنہ میں ہو اور نہ ہی کسی حالت تکلیف میں تکلیف دے۔