(۳۰۰۳۸) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَن مُوسَی بْنِ عُبَیْدۃَ ، عَن زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عْن جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَلا أُعَلِّمُکُمْ مَا عَلَّمَ نُوحٌ ابْنَہُ ؟ قَالُوا : بَلَی ، قَالَ : آمُرُک بِقَوْلِ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ، فَإِنَّ السَّمَاوَاتِ لَوْ کَانَتْ فِی کِفَّۃٍ لَرَجَحَتْ بِہَا ، وَلَوْ کَانَتْ حَلْقَۃً قَصَمَتْہَا ، وَآمُرُک تُسَبِّحُ اللَّہَ وَتَحْمَدُہُ ، فَإِنَّہُ صَلاۃُ الْخَلْقِ وَتَسْبِیحُ الْخَلْقِ ، وَبِہَا یُرْزَقُ الْخَلْقُ۔ (بخاری ۵۴۸۔ احمد ۱۶۹)
(٣٠٠٣٨) حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو وہ کلمات نہ سکھاؤں جو حضرت نوح نے اپنے بیٹے کو سکھائے تھے ؟ تو صحابہ نے فرمایا کیوں نہیں ؟ ضرور ، حضرت نوح نے فرمایا تھا، میں تجھے حکم دیتا ہوں ان کلمات کے پڑھنے کا : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پس بلاشبہ اگر تمام آسمانوں کو ایک ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے تو کلمہ والا پلڑا جھک جائے۔ اور اگر کسی دائرہ میں ہو تو یہ کلمات ان کو توڑ دیں اور میں تجھے حکم دیتا ہوں اللہ کی پاکی اور اس کی تعریف بیان کرنے کا ۔ پس بیشک یہ مخلوق کی دعا ہے اور مخلوق کی تسبیح ہے۔ اور اسی کے ذریعے مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے۔