(۳۰۰۹۲) حَدَّثَنَا عَبِیْدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَن ہِلالِ بْنِ یَِسَافٍ ، قَالَ : کَانَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ ہَمْدَانَ تُسَبِّحُ وَتُحْصِیہِ بِالْحَصْباء ، أَوِ النَّوَی فَمَرَّتْ عَلَی عَبْدِ اللہِ ، فَقِیلَ لَہُ : ہَذِہِ الْمَرْأَۃُ تُسَبِّحُ وَتُحْصِیہِ بِالْحَصَی ، أَوِ النَّوَی ، فَدَعَاہَا فَقَالَ : لَہَا : أَنْتِ الَّتِی تُسَبِّحِینَ وَتُحْصِینَ ؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ إنِّی لأَفْعَلُ ، فَقَالَ : أَلا أَدُلُّک عَلَی خَیْرٍ مِنْ ذَلِکَ ، تَقُولِینَ : اللَّہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا ، وَالْحَمْدُ للہِ کَثِیرًا ، وَسُبْحَانَ اللہِ بُکْرَۃً وَأَصِیلاً۔
(٣٠٠٩٢) حضرت ھلال بن یساف فرماتے ہیں کہ قبیلہ ہمدان کی ایک عورت تھی جو اللہ کی پاکی بیان کرتی تھی اور اسے کنکریوں یا دانوں پر شمار کرتی تھی، پس وہ حضرت عبداللہ کے پاس سے گزری ، تو ان کو بتلایا گیا۔ کہ یہ عورت تسبیح پڑھتی ہے اور اس کو کنکریوں یا دانوں پر شمار کرتی ہے۔ تو حضرت عبداللہ نے اس عورت کو بلایا، اور اس سے پوچھا : کیا تو ہی وہ عورت ہے جو تسبیح پڑھتی ہے اور شمار کرتی ہے ؟ وہ کہنے لگی ! جی ہاں ! میں ہی ایسا کرتی ہوں، تو حضرت عبداللہ نے فرمایا : کیا مں اس سے بہتر فعل کی طرف تیری راہنمائی نہ کروں ؟ تم اس طرح ذکر کیا کرو : اللہ سب سے بڑا ہے، اور سب تعریفیں کثرت سے اللہ کے لیے ہیں، اور صبح و شام میں اللہ ہر عیب سے پاک ہے۔