(۳۰۰۹۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، عَن سَلْمَانَ ، قَالَ : إذَا کَانَ الْعَبْدُ یَحْمَدُ اللَّہَ فِی السَّرَّائِ وَیَحْمَدُہُ فِی الرَّخَائِ فَأَصَابَہُ ضُرٌّ فَدَعَا اللَّہَ قَالَتِ الْمَلائِکَۃُ : صَوْتٌ مَعْرُوفٌ مِنَ امْرِئٍ ضَعِیفٍ فَیَشْفَعُونَ لَہُ وَإِذَا کَانَ الْعَبْدُ لاَ یَذْکُرُ اللَّہَ فِی السَّرَّائِ ، وَلا یَحْمَدُہُ فِی الرَّخَائِ فَأَصَابَہُ ضُرٌّ فَدَعَا اللَّہَ قَالَتِ الْمَلائِکَۃُ : صَوْتٌ مُنْکَرٌ۔
(٣٠٠٩٤) حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان نے ارشاد فرمایا : جب کوئی بندہ خوشی کی حالت میں اللہ کا ذکر کرتا ہے اور فراخی کی حالت میں اس کی حمد بیان کرتا ہے، پھر اسے کوئی تکلیف پہنچی تو اس نے اللہ سے دعا مانگی ! تو فرشتے کہتے ہیں، کمزور بندے کی جانی پہچانی آواز ہے ، پھر وہ اللہ کے سامنے اس بندے کی سفارش کرتے ہیں ، اور جب کوئی بندہ خوشی کی حالت میں اللہ کو یاد نہیں کرتا اور فراخی کی حالت میں اس کی حمدبیان نہیں کرتا پھر اس کو کوئی تکلیف پہنچی اور اس نے اللہ سے دعا مانگی تو فرشتے کہتے ہیں۔” بُری آواز ہے۔ “