(۳۰۱۰۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، عَن زِیَادِ بْنِ ثُوَیْبٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَشْتَکِی ، فَقَالَ : أَلا أَرْقِیک بِرُقْیَۃٍ عَلَّمَنِیہَا جِبْرِیلُ : بِسْمِ اللہِ أَرْقِیک ، وَاللَّہُ یَشْفِیک مِنْ کُلِّ أَرِبٍ یُؤْذِیک ، وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِی الْعُقَدِ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إذَا حَسَدَ۔
(٣٠١٠٧) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ پر داخل ہوئے اس حال میں کہ میں تکلیف میں تھا۔ پھر فرمانے لگے : کیا میں تمہیں دم نہ کروں جو دم مجھے حضرت جبرائیل نے سکھایا ہے ! اللہ کے نام کے ساتھ میں تجھے دم کرتا ہوں اور اللہ ہی تجھے شفا دے ہر اس عضو سے جو تجھے تکلیف دے اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔