(۳۰۱۱۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِیُّ ، حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، حَدَّثَنَا سِمَاکٌ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالَ : تَنَاوَلْت قِدْرًا لَنَا فَاحْتَرَقَتْ یَدَیَّ فَانْطَلَقَتْ بِی أُمِّی إِلَی رَجُلٍ جَالِسٍ فِی الْجَبَّانَۃِ ، فَقَالَتْ لَہُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، فَقَالَ : لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ ، ثُمَّ أَدْنَتْنِی مِنْہُ فَجَعَلَ یَنْفُثُ وَیَتَکَلَّمُ لاَ أَدْرِی مَا ہُوَ ، فَسَأَلْت أُمِّی بَعْدَ ذَلِکَ مَا کَانَ یَقُولُ ؟ قَالَتْ : کَانَ یَقُولُ : أَذْہِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لاَ شَافِیَ إِلاَّ أَنْتَ۔
(٣٠١١٠) حضرت محمد بن حاطب فرماتے ہیں کہ میں نے گرم ہانڈی پکڑ لی تو میرا ہاتھ جل گیا ، پھر میری والدہ مجھے ایک آدمی کے پاس لے گئیں جو بلند جگہ میں بیٹھا تھا، میری والدہ نے ان کو کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تو انھوں نے فرمایا : تم خوش بخت و خوش نصیب رہو فرماؤ پھر میری والدہ نے مجھے ان کے قریب کردیا، پس وہ پھونک مارتے تھے اور کچھ بولتے تھے، میں نہیں جان پا رہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، پھر بعد میں میں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ وہ کیا پڑھ رہے تھے ؟ والدہ نے فرمایا : وہ یہ کلمات پڑھ رہے تھے : لوگوں کے رب ! تکلیف کو دور فرما۔ تو شفا دے اور تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے۔