(۳۰۱۱۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلِمَۃَ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : اشْتَکَیْت فَدَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ : اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ أَجَلِی قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِی ، وَإِنْ کَانَ مُتَأَخِّرًا فَاشْفِنِی ، أَوْ عَافِنِی ، وَإِنْ کَانَ بَلائً فَصَبِّرْنِی ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : کَیْفَ قُلْتَ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ لَہُ ، فَمَسَحَنِی بِیَدِہِ ، ثم قَالَ : اللَّہُمَّ اشْفِہِ ، أَوْ عَافِہِ فَمَا اشْتَکَیْت ذَلِکَ الْوَجَعَ بَعْدُ۔
(٣٠١١٣) حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں تکلیف میں مبتلا تھا پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ میں یوں دعا کررہا تھا : اے اللہ ! اگر میری موت حاضر ہے تو مجھے موت کے ذریعہ راحت پہنچا۔ اور اگر ابھی موت مںِ تاخیر ہے تو مجھے شفا بخش یا مجھے عافیت عطا فرما، اگر کوئی مصیبت ہے تو مجھے صبر سے نواز دے۔ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کیا پڑھ رہے ہو ؟ حضرت علی فرماتے ہیں : میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے وہ کلمات پڑھے، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ مبارک مجھ پر پھیرا پھر یوں دعا پڑھی : اے اللہ ! تو اس کو شفا بخش یا تو اس کو عافیت بخش دے۔ حضرت علی فرماتے ہیں : پھر کبھی مجھے یہ تکلیف نہیں ہوئی۔