hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 30129

.

ابن أبي شيبة

30129
Ibn Abi Shaybah
(۳۰۱۳۰) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَن طُعْمَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَن رَجُلٍ یُقَالُ لَہُ مِیکَائِیلُ شَیْخٌ مِنْ أَہْلِ خُرَاسَانَ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ إذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ یقول : قَدْ تَرَی مَقَامِی وتعلم حَاجَتِی فَارْجِعْنِی مِنْ عِنْدِکَ یَا اللَّہُ بِحَاجَتِی مُفَلَّجًا مُنَجَّحًا مُسْتَجِیبًا مُسْتَجَابًا لِی ، قَدْ غَفَرْت لِی وَرَحِمَتْنِی فَإِذَا قَضَی صَلاتَہُ ، قَالَ : اللَّہُمَّ لاَ أَرَی شَیْئًا مِنَ الدُّنْیَا یَدُومُ ، وَلا أَرَی حَالاً فِیہَا یَسْتَقِیمُ ، اللَّہُمَّ اجْعَلْنِی أنْطِقُ فِیہَا بِعِلْمٍ وَأَصْمُتُ بِحُکْمٍ ، اللَّہُمَّ لاَ تُکْثِرْ لِی مِنَ الدُّنْیَا فَأَطْغَی ، وَلا تُقِلَّ لِی مِنْہَا فَأَنْسَی ، فَإِنَّہُ مَا قَلَّ وَکَفَی خَیْرٌ مِمَّا کَثُرَ وَأَلْہَی۔
(٣٠١٣٠) خراسان کا ایک بوڑھا شخص جس کو میکائیل کہا جاتا تھا انھوں نے فرمایا کہ حضرت عمر جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا فرماتے : تو میرے کھڑے ہونے کو جانتا ہے اور میری ضرورت کو بھی جانتا ہے : اے اللہ ! تو مجھے اپنے پاس سے لوٹا اس حال میں کہ میری حاجت پوری ہو، کامیاب ہو، قبول ہونے والی قبول کی گئی میرے لیے۔ تحقیق تو نے میری مغفرت فرما دی اور تو نے مجھ پر رحم فرما دیا۔ پس جب اپنی نماز مکمل فرما لیتے تو فرماتے : اے اللہ ! میں نے دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں دیکھی جو دائمی ہو۔ اور نہ ہی کوئی ایسی حالت دیکھی جو کہ ہمیشہ سیدھی رہے۔ اے اللہ ! تو مجھے ایسا بنا دے کہ میں علم کے ساتھ بات کروں اور میں حکم کے ساتھ خاموش رہوں۔ اے اللہ ! تو میرے لیے دنیا کو زیادہ مت فرما دے کہ میں سرکش بن جاؤں۔ اور نہ ہی میرے لیے اس دنیا کو اتنا تھوڑا کر دے کہ میں تجھے بھول جاؤں، اس لیے کہ جو تھوڑا اور کافی ہو وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غفلت میں ڈال دے۔