(۳۰۱۵۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَن عُمَارَۃَ بْنِ غَزِیَّۃَ عَن یَحْیَی بْنِ رَاشِدٍ ، قَالَ : حجَجْنَا ، فَلَمَّا قَضَیْنَا نُسُکَنَا قُلْنَا : لَوْ أَتَیْنَا ابْنَ عُمَرَ فَحَدَّثْنَا ، فَأَتَیْنَا فَخَرَجَ إلَیْنَا فَجَلَسَ بَیْنَنَا فَصَمَتَ لِنَسْأَلَہُ ، وَصَمَتْنَا لِیُحَدِّثَنَا ، فَلَمَّا أَطَالَ الصَّمْتَ ، قَالَ : مَا لَکُمْ لاَ تَکَلَّمُونَ ، أَلا تَقُولُونَ : سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلا إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ ، الْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا إِلَی سَبْعِمِئَۃِ ضِعْفٍ ، فَإِنْ زِدْتُمْ خَیْرًا زَادَکُمَ اللَّہُ۔
(٣٠١٥٠) حضرت یحییٰ بن راشد فرماتے ہیں کہ ہم نے حج کیا، جب ہم اپنی قربانی کرچکے تو ہم کہنے لگے : اگر ہم حضرت ابن عمر کی خدمت میں حاضر ہوں تو وہ ہمیں کوئی حدیث بیان کردیں گے۔ پس ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ ہمارے پاس تشریف لے آئے پھر ہمارے درمیان بیٹھ گئے۔ پس وہ خاموش رہے تاکہ ہم ان سے سوال کرسکیں۔ اور ہم خاموش رہے تاکہ وہ ہمارے سامنے احادیث بیان کریں، پس جب خاموشی طوالت اختیار کرگئی تو انھوں نے ارشاد فرمایا : تمہیں کیا ہوا تم بات نیں ش کرتے ؟ کیا تم یہ کلمات نہیں پڑھو گے ؟ اللہ تمام عیبوں سے پاک ہے اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ کی مدد سے ہے ؟ نیکی کا ثواب تو دس گُنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے ، پس اگر تم بھلائی میں اضافہ کرو گے تو اللہ بھی تمہیں زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔