(۳۰۱۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، عَن نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : قَالَ کَعْبٌ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو : ہَلْ تَطَیَّرُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَمَا تَقُولُ : قَالَ : أَقُولُ : اللَّہُمَّ لاَ طَیْرَ إِلاَّ طَیْرُک ، وَلا خَیْرَ إِلاَّ خَیْرُک ، وَلا رَبَّ غَیْرُک ، قَالَ : أَنْتَ أَفْقَہُ الْعَرَبِ۔
(٣٠١٥٩) حضرت نافع بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے سوال کیا کہ کیا تم بد شگونی لیتے ہو ؟ انھوں نے فرمایا : جی ہاں ! انھوں نے پوچھا : تم کیا دعا پڑھتے ہو ؟ ابن عمرو نے فرمایا : اے اللہ ! کوئی بد شگونی نہیں مگر تیری طرف سے اور کوئی بھلائی نہیں ہے مگر تیری طرف سے اور تیرے علاوہ کوئی پالنے والا نہیں ہے، تو حضرت کعب نے فرمایا : آپ تو عرب کے سب سے بڑے فقیہ ہیں۔