(۳۰۱۶۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی الضُّحَی ، عَن مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : اسْتَأْذَنَ عَلَی النبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلانِ فَأَغْلَظَ لَہُمَا وَسَبَّہُمَا ، قَالَتْ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ مَنْ أَصَابَ مِنْک خَیْرًا فما أَصَابَ ہَذَانِ مِنْک خَیْرًا ، قَالَ : أَوَ مَا عَلِمْت مَا عَاہَدْت عَلَیْہِ رَبِّی ؟ قَالَتْ لَہُ : وَمَا عَاہَدْت عَلَیْہِ رَبَّک ؟ قَالَ : قُلْتُ : اللَّہُمَّ أَیُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتہ ، أَوْ لَعَنْتہ ، أَوْ جَلَدْتہ فَاجْعَلْہَا لَہُ مَغْفِرَۃً وَعَافِیَۃً وَکَذَا وَکَذَا۔
(مسلم ۲۰۰۷۔ احمد ۴۵)
(٣٠١٦٩) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ دو آدمیوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب فرمائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر غصہ کا اظہار فرمایا اور ان کو بُرا بھلا کہا، حضرت عائشہ فرماتی ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہر شخص نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھلائی پائی۔ پس ان دونوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھلائی نہیں پائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتی ہو کہ میں نے اپنے رب سے کیا معاہدہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ نے پوچھا : کہ آپ نے اپنے رب سے کیا معاہدہ کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں نے یوں کہا ہے کہ : اے اللہ ! کوئی بھی مومن بندہ جس کو میں نے برا بھلا کہا ہو یا جس پر میں نے لعنت کی ہو یا جس کو میں نے کوڑے لگائے ہوں۔ پس آپ اس کو اتنی اور اتنی مغفرت اور عافیت بخش دیجیے۔