(۳۰۱۹۹) حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا سِمَاکٌ الْحَنَفِیُّ ، قَالَ أَبُو زَمِیلٍ حَدَّثَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ اسْتَقْبَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَۃَ ، ثُمَّ مَدَّ یَدَیْہِ ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ أَنْجِزْ لِی مَا وَعَدْتنِی ، اللَّہُمَّ ائْتِنِی مَا وَعَدْتنِی ، اللَّہُمَّ إنَّک إِنْ تُہْلِکْ ہَذِہِ الْعِصَابَۃَ مِنْ أَہْلِ الإِسْلامِ فَلا تُعْبَدْ فِی الأَرْضِ أَبَدًا ، فَمَا زَالَ یَسْتَغِیثُ رَبَّہُ وَیَدْعُو حَتَّی سَقَطَ رِدَاؤُہُ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ : {إذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَنِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلائِکَۃِ مُرْدِفِینَ}۔
(مسلم ۱۳۸۳۔ ترمذی ۳۰۸۱)
(٣٠١٩٩) حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے مجھے بیان کیا : غزوہ بدر کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبلہ رخ ہوئے، اپنے ہاتھ پھیلائے اور یہ دعا مانگی : اے اللہ ! جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے تو وہ مجھے عطا فرما۔ اے اللہ ! اگر آپ نے اہل اسلام کی اس جماعت کو ہلاک کردیا۔ تو پھر کبھی بھی زمین میں تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل اپنے رب سے فریاد کرتے رہے، اور اس سے دعا مانگتے رہے ، یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چار زمین پر گرگئی ۔ تو پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : ترجمہ : جب تم فریاد کر رہے تھے اپنے رب سے تو اس نے تمہاری فریاد سن لی ، (اور فرمایا ہے) بیشک میں مدد دوں گا تمہیں ایک ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے لگاتار آتے جائیں گے۔