(۳۰۲۷۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَن ہِلالٍ ، عَنْ أَبِی شُعْبَۃَ ، قَالَ : کُنْتُ بِجَنْبِ ابْنِ عُمَرَ بِعَرَفَۃَ وَإِنَّ رُکْبَتَیَّ لَتَمَسُّ رُکْبَتَہُ ، أَوْ فَخِذِی تَمَسُّ فَخِذَہُ ، فَمَا سَمِعْتہ یَزِیدُ عَلَی ہَؤُلائِ الْکَلِمَاتِ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ حَتَّی أَفَاضَ مِنْ عَرَفَۃَ إِلَی جَمْعٍ۔
(٣٠٢٧٤) حضرت ابو شعبہ فرماتے ہیں کہ میں میدان عرفات میں حضرت ابن عمر کے پہلو میں تھا۔ اور میرا گھٹنا ان کے گھٹنے سے چھو رہا تھا، یا میری ران ان کی ران سے چھو رہی تھی، پس میں نے نہیں سنا کہ انھوں نے ان کلمات پر کچھ زیادتی کی ہو ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہاں تک کہ وہ میدان عرفات سے منیٰ کی طرف لوٹ گئے۔